انگلینڈ اور ویلز کے ہزاروں اساتذہ نے تنخواہوں کے تنازع پر 3 روزہ ہڑتال کرنے کی دھمکی دیدی
لندن : انگلینڈ اور ویلز کے ہزاروں اساتذہ نے تنخواہوں کے تنازعہ پر 3روزہ ہڑتال کرنے کی دھمکی دیدی، نیشنل ایجوکیشن یونین کی دھمکی کے مطابق نارتھ انگلینڈ کے اساتذہ ہڑتال کریں گے جس کی وجہ سے زیادہ تر اسکولوں میں یا تو طلبہ کی تعداد کم رہے گی یا انھیں مکمل طورپر بند کردیاجائے گا۔وزیر تعلیم گیلین کیغان نے ہڑتال کا فیصلہ ناقابل معافی قرار دیا ہے انھوں نے کہا کہ بچوں کو خاص طورپر کورونا کی وبا کے بعد اب کلاسوں میں ہونا چاہئے۔نیشنل ایجوکیشن یونین کے رکن اساتذہ مڈلینڈ اور انگلینڈ کے مشرقی علاقے میں بدھ کوہڑتال کریں گے جبکہ ویلز اور جنوبی انگلینڈ میں جمعرات کو ہڑتال ہوگی۔ نیشنل ایجوکیشن یونین کے جوائنٹ سیکریٹری کیون کورٹنی نے کہا ہے کہ ان 3دنوں کے دوران یونین کے 200,000لاکھ ارکان ہڑتال میں حصہ لیں گے ،6ہفتے قبل ہڑتال کے اعلان کے بعد سے ملک کی سب سے بڑی تعلیمی یونین کے 50,000 نئے ارکان نے ہڑتال کے حق میں دستخط کئے ہیں۔ نارتھ انگلینڈ میں ہڑتال سے قبل بات کرتے ہوئے کیون کورٹنی نے کہا کہ میں سمجھتاہوں کہ اس تنازعے کی وجہ سے بیشتر اسکول متاثر ہوں گے ان میں سے بعد مکمل طورپر بند ہوں گے اور کچھ جزوی طورپر بند ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ نارتھ ویسٹ اور یارک شائر اور ہمبر میں ہڑتال کے دوران اسکولوں کے سامنے مظاہرے ہوں گے اور مانچسٹر،لیڈز اور نیوکاسل میں ریلیاں نکالی جائیں گی۔ بعض والدین کو بچوں کی دیکھ بھال کا متبادل انتظام کرنے کیلئے ملازمت سے چھٹی لینا پڑے گی۔والدین کے نام ایک پیغام میں کیون کورٹنی نے کہاہے کہ اس ہڑتال کی وجہ سے آپ کے بچوں کی تعلیم اور آپ کی گھریلو اور ملازمت میں خلل پڑے گا ۔لیکن ہم سمجھتے ہیں ہم یہ ہڑتال حکومت کو بچوں کی تعلیم کیلئے حکومت کی جانب سے فنڈز فراہم کرنے پر مجبور کرنے کے اخلاقی مقصد کیلئے کر رہے ہیں۔گزشتہ ہفتہ کیغان نے تنخواہوں ،حالات کار اور اصلاحات پر بات کرنے کیلئے اساتذہ کی یونینوں کو اس شرط پر مذاکرات کی پیشکش کی تھی کہ نیشنل ایجوکیشن یونین ہڑتال معطل کردے ،جس پر نیشنل ایجوکیشن یونین نے وزیر تعلیم سے کہاتھا کہ وہ مذاکرات کیلئے شرائط نہ رکھیں بلکہ ہڑتال سے بچنے کیلئے سنجیدگی سے مذاکرات کریں۔ کیون کورٹنی نے کہاہے کہ میرے خیال میں ہڑتالوں کو صرف یہ کہہ دینے سے اگر آپ بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو ہڑتال نہ کریں ،انھوں نے کہا کہ ہم کسی بھی وقت کسی بھی جگہ ملاقات کیلئے تیار ہیں اور امید کرتے ہیں کہ علاقائی ہڑتالوں کو دیکھتے ہوئے وہ ہمارے ساتھ سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کریں اور اساتذہ کو معقول پیشکش کریں۔پیر کی شام ایک بیان میں وزیر تعلیم نے کہاکہ حکومت کی حیثیت سے ہم نےنیشنل ایجوکیشن یونین اور رائل نرسنگ کالج کے رہنمائوں کو ہڑتال ملتوی کرنے اورتنخواہوں ،حالات کار اور اصلاحات پر بات چیت کیلئے مذاکرات کی سنجیدہ پیشکش کی لیکن یہ شدید مایوس کن بات ہے کہ نیشنل ایجوکیشن یونین نے مذاکرات میں شریک ہونےسے انکار کردیا جبکہ رائل نرسنگ کالج نے ہڑتال منسوخ کرنے سے انکار کردیا۔اور تنخواہوں پر بات چیت کیلئے میز پر بیٹھنے کے بجائے نیشنل ایجوکیشن یونین نے ایک دفعہ پھر بچوں اور فیملیز کو مشکلات کا شکار کردیا ہے ،بچے اسکول میں ہونے کا حق رکھتے ہیں مزید ہڑتال ناقابل معافی ہے۔ یکم فروری کو ہڑتال کے پہلے دن انگلینڈ کے بیشتر سرکاری اسکولوں کو بعض طلبہ کیلئے اسکولوں کے دروازے بند کرنا پڑے ،محکمہ تعلیم کے ڈیٹا کے مطابق انگلینڈ کے 44.7فیصد اسکول کھلے رہے لیکن حاضری محدود تھی جبکہ 9.3اسکول بند رہے، اطلاعات کے مطابق صرف 17.4فیصد سیکنڈری اسکول پوری طرح کھلے رہے۔اسکاٹ لینڈ تعلیمی انسٹی ٹیوٹ کے اساتذہ اور NASUWT یونینیں میں بھی منگل کو ملک گیر ہڑتال ہوئی ،گزشتہ ہفتہ شمالی آئر لینڈ کے بیشتر اساتذہ اسکولوں کے رہنمائوں نے تنخواہوں کے تنازعہ پر 12 گھنٹے کی ہڑتال کی تھی ،امازون کے ورکرز منگل کو ہڑتال کریں گے اور برطانیہ میں ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔جی ایم بی کا کہناہے کہ کوونٹری کے فل فلمنٹ سینٹر کے 350 سے زیادہ ملازمین تنخواہوں کے تنازعہ پر ہڑتال کریں گے۔ ادھر چارٹرڈ فزیوتھیراپی سوسائٹی نے اعلان کیا کہ انگلینڈ کے 56ٹرسٹس کے4,500 ارکان22 مارچ کو تنخواہوں کے مسئلے پر ہڑتال کریں گے۔





