بریگزٹ ڈیل پر ڈرامہ کی کوشش مت کرو، ٹوری ارکان کو سوناک کی ہدایت

لندن: وزیراعظم و رشی سوناک نے ٹوری ارکان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ بریگزٹ ڈیل پر ڈرامہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ انھوں نے ٹوری پارٹی کے بیک بینچرز سے کہا کہ وہ ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی کو ڈیل پر غور کرنے کیلئے وقت اور مہلت دیں کیونکہ یورپی یونین کے ساتھ اس معاہدے کا مقصد شمالی آئر لینڈ سے بریگزٹ کے بعد تجارتی معاہدوں سے متعلق مسائل حل کرنا ہے۔ شمالی آئرلینڈ کی مخلوط حکومت کی بحالی کیلئے ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی کی حمایت کلیدی اہمیت رکھتی ہے جبکہ یہ مخلوط حکومت کو کام کرنے سے روکنے کیلئے Stormont کا بائیکاٹ کررہی ہے۔ ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی کے قائد سر جیفری ڈونالڈ سن کا کہنا ہے کہ اس ڈیل سے پارٹی کے بعض تحفظات دور ہوجائیں گے لیکن بعض مسائل باقی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیل پر غور کرنے اور اس حوالے سے اتفاق رائے پر پہنچنے کیلئے پارٹی کو کچھ وقت کی ضرورت ہے۔ منگل کو وزیراعظم رشی سوناک نے ٹوری پارٹی کی بااثر 1922 کمیٹی کے ارکان سے خطاب کیا تاکہ وہ شمالی آئرلینڈ کے ساتھ ایک روز پہلے ہونے والی پیش رفت کی تفصیلات بتا کر اپنا کام جاری رکھ سکیں۔ میٹنگ کے بعد شمالی آئر ینڈ کے وزیر اسٹیو بیکر نے رپورٹروں کو بتایا کہ ڈیل اچھی ہے۔ انھوں نے اشارہ دیا کہ حکومت یورپی یونین کے ساتھ اب مذاکرات دوبارہ شروع نہیں کرے گی۔ دریں اثنا بریگزٹ کے حامی ٹوری ارکان کے یورپی ریسرچ گروپ نے ڈیل پر غور کرنے کیلئے وکلا کا ایک گروپ قائم کردیا ہے اور گروپ کے چیئرمین مارک فرانکوئس نے کہا ہے کہ ڈیل پر غور کرنے میں کم از کم 15 دن لگیں گے۔ انھوں نے کہا وزیراعظم کا یہ کہنادرست ہے کہ ڈی یو پی کو معاہدے پر غور کرنے کیلئے وقت دیاجانا چاہئے۔ڈیوڈ فروسٹ وزیراعظم کی ڈیل کے حوالے سے پہلے ہی اپنا ایک تجزیہ قائم کرچکے ہیں۔ ٹیلی گراف میں اپنے کالم میں انھوں لکھا کہ اگرچہ رشی سوناک کی ڈیل سے کافی مدد ملے گی لیکن یہ ایک کڑوی گولی ہے جو نگلنا پڑے گی۔ انھوں نے کہا کہ اس ڈیل سے شمالی آئرلینڈ کے ساتھ سمجھوتے کی بنیادی باتوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ وزیراعظم رشی سوناک کے نئے سمجھوتے کے تحت برطانیہ سے شمالی آئرلینڈ کیلئے جانے والا سامان ریڈ لین سے علیحدہ ایک نئی گرین لین سے جائے گا تاکہ اس کے یورپی یونین جانے کا خطرہ نہ رہے۔ گرین لین کے ذریعے شمالی آئرلینڈ پہنچنے والے سامان کی معمول کے مطابق چیکنگ ہوگی، جس کی وجہ سے اضافی کاغذی کاررروائی میں نمایاں کمی آجائے گی۔ شمالی آئرلینڈ اب یورپی یونین کے بعض رولز کو تسلیم کرنے کا پابند نہیں رہے گا۔ اطلاعات کے مطابق رشی سوناک نے ٹوری ارکان کو بتایا کہ میں نے سرجیفری کے ساتھ کافی وقت گزارا ہے اور ہمیں ڈی یوپی کو سوچنے سمجھنے کیلئے مناسب وقت دینا چاہئے، اس لئے ان پر فوری جواب دینے کیلئے دبائو نہ ڈالا جائے۔ پیر کو اعلان کردہ ونڈسر فریم ورک پر ٹوری پارٹی کا ردعمل اب تک مثبت رہا ہے۔ 1922 کمیٹی سے رشی سوناک کے خطاب کے بعد سابق وزیراعظم بورس جانسن کے ایک اتحادی نے کہا کہ وزیراعظم نے شاندار کام کیا ہے۔ شمالی آئرلینڈ کی سب سے بڑی پارٹی Sinn Féin نے ڈی یوپی سے کہا ہے کہ وہ مخلوط حکومت میں واپس آجائیں، قوم پرست پارٹی نے ونڈسر فریم ورک کا خیر مقدم کیا ہے تاہم انھوں نے کہا ہے کہ ابھی اس کی تفصیلات پر غور کرنا باقی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں