2022 کے دوران 23 ہزار زائد اموات کا تعلق اے اینڈ ای انتظار سے ہونے کا دعویٰ
لندن : ایک میڈیکل کالج نے دعویٰ کیا ہے کہ 2022میں 23ہزار زائد اموات کا تعلق اے اینڈ ای میں انتظار سے تھا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ 23ہزار زائد اموات اے اینڈ ای میں طویل انتظار کے باعث ہوئیں۔ رائل کالج آف ایمرجنسی میڈیسن نے کہا ہے کہ 2022میں ایک اعشاریہ 66ملین افراد نے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ پہنچنے کے بعد اے اینڈ ای میں 12گھنٹے سے زائد انتظار کیا۔ کالج نے وارننگ دی ہے کہ طویل انتظار مریض کی سلامتی اور اموات کے لئے تباہ کن نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ کالج کے نئے بریفنگ پیپر میں طویل انتظار اورزائداموات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس نے 12گھنٹے سے زائد انتظار کرنے والے مریضوں کی تعداد کا پتہ چلانے کے لئے این ایچ ایس ڈیجیٹل کو فریڈم آف انفارمیشن ریکویسٹ بھیجی تھی۔ یہ اطلاع صرف سالانہ بنیاد پر شائع کی جاتی ہے گرچہ حکام نے اس سال کے اختتام سے ماہانہ بنیادپر شائع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ کالج نے پتہ لگایاہے کہ انگلینڈ میں 2022میں 16لاکھ 56ہزار 206مریضوں نے ایڈمٹ ٹرانسفراور ڈسچارج کئے جانے سے قبل ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں 12گھنٹے یا زائد انتظار کیا اور پھرحساب لگایاکہ موت کامعیارتناسب کاتعلق طویل انتظارسے ہے کالج نے یہ تجزیہ ایک پچھلی اسٹڈی کے اعدادوشمار کو استعمال کرتے ہوئے لگایا ہے جو 2021 میں ایمرجنسی میڈیسن جرنل میں شائع ہوئے تھے جس سے 2016 اور 2018کے درمیان زائد اموات اورایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں طویل انتظار کا تعلق کاپتہ چلاتھا۔ این ایچ ایس انگلینڈ نے کہا ہے کہ اعدادوشمار زائد اموات کے بارے میں مکمل یا یقینی تصویر نہیں دے سکیں گے۔ رائل کالج آف ایمرجنسی میڈیسن کے صدر ڈاکٹر ایڈرین بوائل نے کہا ہےکہ یہ اعدادوشمار دل ہلانے والے ہیں تاہم حیرت زدہ کرنے والے نہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ اعدادوشمار کی شفافیت کتنی ضروری ہے اور ہمیں یقین ہے کہ اعدادوشمارکے ساتھ ایماندار ہونا مریضوںاور سٹاف کے لئے خدمت ہوگی۔ اس سے مریضوں کے بہائو اور ایمرجنسی کیئر نظام میں تبدیلی کے لئے مفاہمت پیدا ہوگی۔ بہرحال تبدیلی اسی صورت میں آئے گی جب ہم سٹاف، بیڈزاور وسائل کے حامل ہوں جن کی ہمیں ضرورت ہو۔ ہم حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ مکمل فنڈ والا طویل المدتی این ایچ ایس ورک فورس پلان شائع کرے جس کی فراہمی کا اس نے وعدہ کیا ہے۔ این ایچ ایس انگلینڈ کے ترجمان نے کہا ہے کہ زائد اموات کا سبب مختلف عوامل ہیں اور اسے ایک ہی وجہ سے قرار دینے سے جیسا کہ کالج نے اعدادوشمار کا حوالہ دیا ہے مکمل یا یقینی تصویر کے سامنے آنے کا امکان نہیں۔ این ایچ ایس کی توجہ ایمرجنسی ڈپارٹمنٹس سے مریضوں کے بہائو کو بہتر بنانے اورزیادہ تعداد میں طبی طور پر فٹ مریضوں کے ڈسچارج پر ہے۔ ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر کے ترجمان نے کہا ہےکہ زائد اموات کے اسباب کئی ہیں اور یہ بات اہم ہے کہ اس کی ایک ہی وجہ بتائی جائے تاہم یہ ضروری ہے کہ ضرورت سے زائد انتظار نہیں ہونا چاہئے اور یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ گزشتہ ماہ ایمبولینس رسپانس کے وقت سمیت اداروں میں نمایاں بہتری آئی ہے ہم نے جامع ارجنٹ اور ایمرجنسی کیئر ریکوری پلان شائع کیا ہے جس کا رائل کالج آف ایمرجنسی میڈیسن نے خیرمقدم کیا ہے۔





