پانی میں تیرنے، ہوا میں اڑنے اور ’چمٹ جانے‘ والے ڈرون

بیجنگ: چینی ماہرین نے پانی میں تیرنے اور ہوا میں پرواز کرنے والا ایسا ڈرون بنایا ہے جس پر ایک چھوٹا ربر کا سکشن کپ لگا ہے جس کی بدولت وہ بڑے جانور سمیت کسی بھی جگہ پر مضبوطی سے چمٹ سکتے ہیں۔

اس طرح آبی ڈرون وھیل پر سوار ہوکر ان کی نگرانی کرسکتے ہیں یا خاموشی سے دشمن کی آبدوزوں سے بھی جڑسکتے ہیں۔ ڈرون کا سکشن پمپ ریمورا نامی مچھلی سے بنایا گیا ہے۔ یہ مچھلی بڑے جانوروں سے چمٹ جاتی ہے اور انہیں تنگ کرنے والے کیڑے مکوڑوں یا طفیلیوں کو کھاتی رہتی ہے اور اس کے بدلے مفت میں سواری کےمزے لیتی ہے۔ کارخانہ قدرت میں اس عمل کو ’ہم زیستگی‘ یا سمبوائیوسِس‘ کہا جاتا ہے۔

بیجنگ میں واقع بی ہینگ یونیورسٹی کے لائی وین کا روبوٹ نہ صرف پانی میں تیر سکتا بلکہ بڑے سمندری جاندار سےچمٹ جاتا ہے بلکہ یہ ہوا میں پرواز کے دوران بھی اڑنے والی شے سے چمٹ سکتا ہے۔ اس کےلیے ریمورا مچھلی کاسکشن نظام تھری ڈی پرنٹر سے چھاپا گیا ہے۔ ربر پر مشتمل اس پیڈ کے تمام حصے جب ملتے ہیں تو وہ نمی سے بھرپور سکشن کپ کی طرح کام کرتے ہیں اور کسی بھی شے سے جڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

لیکن پانی میں ڈبکی لگانے کے لیے ماہرین نے کنگ فشر پرندے سے مدد لی ہے جو خاص انداز سے اپنے بازو سکیڑ کر گہرائی تک جاتا ہے اور شکار پکڑ کر لاتا ہے۔ عین اسی طرح ڈرون کی پنکھڑیاں بھی سکڑ کر بند ہوجاتی ہیں اور یوں وہ پانی میں تیزی سے آگے بڑھتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں