مچھلیاں خود کو آئینے میں ’دیکھ کر‘ صاف کرتی ہیں
اوساکا: جاپانی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ بعض مچھلیاں آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر نہ صرف خود کو پہچان سکتی ہیں بلکہ اگر انہیں عکس میں اپنے جسم پر کوئی دھبہ نظر آجائے تو وہ اسے صاف بھی کرتی ہیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے اور ارتقاء یافتہ جانوروں کی طرح ننھی منی مچھلیاں بھی اپنے وجود کا شعور (self awareness) رکھتی ہیں۔ اسی لیے وہ آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر خود کو ’پہچان‘ سکتی ہیں۔
اگر انہیں اپنے عکس میں کوئی اضافی اور غیرمعمولی نشان نظر آجائے تو وہ سمجھتی ہیں کہ کوئی کیڑا ان کے جسم سے چپک گیا ہے جسے چھڑا کر اپنا جسم صاف کرنے کےلیے وہ مختلف ترکیبیں بھی اختیار کرتی ہیں۔
اوساکا سٹی یونیورسٹی میں ڈاکٹر ماناسوری کوہدا کی قیادت میں جاپانی، جرمن اور سوئس ماہرین کی ایک ٹیم نے یہ تحقیق ایک بار پھر انجام دی۔
پہلے کی طرح اس بار بھی تجربات میں Labroides dimidiatus مچھلیاں استعمال کی گئیں جنہیں ’مصفیٰ مچھلیاں‘ (کلینر فش) کہا جاتا ہے۔
یہ شوخ نیلگوں، سیاہ، زرد اور سفید رنگت والی چھوٹی مچھلیاں ہیں جو سمندر میں مختلف جانوروں کی صفائی کرتی ہیں۔
اس کے علاوہ یہ اپنے جسم سے چپکی ہوئی کسی چیز مثلاً چھوٹے کیڑے وغیرہ کو چھڑانے کےلیے کنکروں پتھروں سے خود کو رگڑتی ہیں اور اس طرح خود کو ’صاف‘ کرلیتی ہیں۔
پچھلے تجربات میں ان مچھلیوں کو ایکویریئم کے آئینے میں خود کو پہچاننے کی تربیت دی گئی جس کے بعد ان کے جسموں پر ایسے مقامات پر دھبے لگائے گئے جنہیں وہ صرف آئینے میں ہی دیکھ سکتی تھیں۔
ان تجربات کے دوران مصفیٰ مچھلیوں نے آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر وہ دھبے صاف کیے اور صفائی کے بعد اپنا جائزہ لے کر اطمینان بھی کیا۔
جب یہ تحقیق ’’پی ایل او ایس بائیالوجی‘‘ میں شائع ہوئی تو اس پر کئی ماہرین نے سوالات اٹھا دیئے اور کہا کہ محدود اور مبہم تجربات کی بنیاد پر تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ ان چھوٹی چھوٹی مچھلیوں میں اپنے وجود کا شعور موجود ہے۔





