اومیکرون کی لہر جلد ختم ہوجائے گی، ماہرین کو امید
نیویارک: امریکی ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ کورونا وائرس کے اومیکرون ویریئنٹ سے پیدا ہونے والی نئی وبائی لہر جلد ہی ختم ہوجائے گی۔
یہ بات انہوں نے جنوبی افریقہ اور برطانیہ کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کہی ہے جہاں اومیکرون سے متاثرہ افراد کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا تھا لیکن حالیہ چند دنوں میں وہاں اس ویریئنٹ کے متاثرین کی تعداد میں نمایاں طور پر کمی واقع ہوچکی ہے۔
میری لینڈ، میساچیوسٹس کے جان ہاپکنز اسکول آف میڈیسن میں وبائی امراض کے پروفیسر ڈاکٹر رابرٹ سی بولنگر نے ان اعداد و شمار کی روشنی میں پیش گوئی کی ہے کہ امریکا کی شمالی ریاستوں میں آئندہ چار ہفتوں کے دوران اومیکرون ویریئنٹ کی وجہ سے کورونا وبا کی لہر اپنے عروج کو پہنچے گی لیکن بہت تیزی سے ختم بھی ہوجائے گی۔
واضح رہے کہ ڈیلٹا کے مقابلے میں اومیکرون ویریئنٹ کئی گنا تیزی سے پھیلتا ہے لیکن اس کے اثرات کی شدت خاصی کم ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اب تک اومیکرون ویریئنٹ کے باعث اسپتال میں داخل ہونے اور مرنے والوں کی شرح بہت کم ہے۔
اومیکرون ویریئنٹ کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص اسے شکست دینے میں کامیاب ہوجائے تو وہ ڈیلٹا ویریئنٹ سے بھی قدرتی طور پر محفوظ ہوجاتا ہے۔





