موت کے بعد زندگی کےتحقیقی مقالوں پر لاکھوں ڈالر کا انعام
لاس ویگاس: امریکی ارب پتی نے سوال کیا ہے کہ کیا مرنے کے بعد انسانی شعور برقرار رہتا ہے یعنی موت کے بعد کسی طرح کی زندگی ہوتی ہے؟ جو بھی اس سوال کا سائنسی جواب لائے گا ان تین اسکالروں کو مجموعی طور پر دس لاکھ ڈالر سے زائد کی خطیر رقم دی گئی ہے۔
ارب پتی رابرٹ بائیگلو نے دنیا کے تمام ماہرین کو دعوت دی تھی کہ وہ اس سوال کا سائنسی جواب دینے کی کوشش کریں کہ ’جسمانی موت کے بعد انسانی شعور برقرار رہ سکتا ہے یا نہیں اور اگر ہاں تواس کی نوعیت کیا ہوگی؟‘
واضح رہے کہ رابرٹ کی زندگی میں کئی حادثات رونما ہوئے جس کے بعد وہ اس سوال کا جواب پانا چاہتے ہیں۔ 2020 میں ان کی بیوی لیوکیمیا سے فوت ہوئی، اس سے قبل 1992 میں اس کے بیٹے روڈ لی نے خودکشی کرلی اور اس کے بعد اس کے بیٹے اور رابرٹ کے پوتے نے بھی خود اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
اس کےبعد رئیل اسٹیٹ، ہوٹل اور طیاروں کے بزنس سے وابستہ رابرٹ نے اپنے نام سے ’بائیگلو انسٹی ٹٰیوٹ آف کونشیئسنس اسٹڈیز‘ (بی آئی سی ایس) کی بنیاد رکھی۔ رابرٹ سمجھتے ہیں کہ موت کے بعد بھی لاش میں شعور برقرار رہ سکتا ہے۔
یکم اگست 2021 تک یہ مقابلہ کھلا تھا جس میں دنیا بھر کے ماہرینِ نفسیات اور دماغی و اعصابی سائنسدانوں سے ’ جسمانی موت کے بعد بھی انسانی شعور کے زندہ رہنے پر‘ 25 ہزار الفاظ کا ایک مقالہ لکھنے کو کہا تھا۔ ممتاز ماہرین پر مشتمل ایک پینل جدید سائنس کی روشنی میں لکھے گئے انعام یافتہ مقالوں کا جائزہ لے گی۔ اول انعام پانچ لاکھ، دوسرا تین لاکھ ، تیسرا انعام ڈیڑھ لاکھ ڈالر دیا گیا ہے۔ مقابلے میں دنیا بھر سے دوہزار ماہرین نے حصہ لیا۔





